101

آہ! سید شفیع عالم مرحوم


ڈاکٹر جسیم الدین
پی ڈی ایف ،شعبۂ عربی ،دہلی یونیورسٹی دہلی
سید شاہ شفیع عالم مرحوم متولی گیا کربلا سے رابطہ وتعلق کی مدت بہت طویل نہیں لیکن چند برسوں کی شناسائی نے ہی ذہن ودماغ پر جو نقوش مرتسم کیے وہ میری زندگی کا گراں مایہ سرمایہ سے کم نہیں، ان سے میرا تعلق اس زمانہ میں قائم ہوا جب میں دہلی یونیورسٹی سے ایم اے کررہا تھا اور میری رہائش دہلی یونیورسٹی کے ڈی ایس کوٹھاری ہاسٹل میں تھی۔دہلی یونیورسٹی میں ہاسٹل کی قلت ہے ،یہاں ہاسٹل ملنا اپنے آپ میں ایک امتیاز ہے، ہاسٹل میں آتے ہی یہاں سب سے پہلے جن سے میری ملاقات ہوئی وہ سید شبیر عالم تھے۔جو،اب ڈاکٹر یٹ کی ڈگری سے سرفراز ہونے کے بعدشعبہ¿ اردو امبیڈکر کالج دہلی یونیورسٹی میں درس وتدریس سے وابستہ ہیں۔ہاسٹل میں قیام کے دوران میری ملاقات بات بکثرت ان سے ہی ہواکرتی تھی اور یہ صرف میرے لیے ہی نہیں مرجع نہیں تھے،بلکہ ہاسٹل میں مقیم سبھی طلبہ کے درمیان بے حد مقبول تھے ،وہ انسانیت نوزی ،بڑوں کا احترام اور اپنے جونیئروں کی قدم قدم پر رہنمائی کے لیے بطور خاص جانے جاتے تھے۔جب میری ان سے شناسائی ہوئی تو جیسے جیسے ہاسٹل کے ایام گزرتے گئے ویسے ویسے میری قربت بڑھتی گئی اور دوسال مکمل گزرنے سے قبل اسی دوران ڈاکٹر صاحب کے والد بزرگوار سید شاہ شفیع عالم کا بغرض علاج ومعالجہ دہلی میں نزول اجلال ہوا۔ ڈاکٹر صاحب نے ہاسٹل کے گیسٹ روم میں اپنے والد محترم کے قیام کا انتظام کرایا، یہاں باضابطہ میری ملاقات بات والد بزرگوار سے ہوئی اور ڈاکٹر صاحب کے اندر جوخوبیاں رگ وپے میں رچی بسی ہیں ،وہ انھیں جیسے نیک دل،پاک طینت اور خورد نوازی سے سرشار شخصیت کی تربیت کا ثمرہ ہے۔ایک ہفتہ کا قیام رہا ہوگا،لیکن ایک ہفتہ کے دوران ان کے خلوص ،ان کی پاکیزگی،طہارت قلب ودل اور جذبہ¿ مودت نے ایسے نقوش مرتسم کیے ۔وہ میری زندگی کے لیے انمول بن گئے۔ہارٹ کی سرجری کے لیے جب آل انڈیا نسٹی ٹیوٹ آف مڈیکل سائنیس(ایمس) میں اڈمیٹ کیے گئے تو اس دوران بھی میں مع وائف مزاج پرسی کے لیے حاضر ہوا ،یہاں ڈاکٹر سید شبیر عالم کے ساتھ ان کے دوسرے صاحبزادے شبر عالم سے بھی ملاقات ہوئی ، انھوں نے بھی پہلی ہی ملاقات میں نہ صرف مجھے بلکہ میری شریک حیات کو بھی اپنا گرویدہ بنالیا۔اولاد اگر اعلیٰ اخلاق وکردار سے مرصع ہو تو یقین مانیے کہ اس میں والدین کا ہی اہم کردار ہوتا ہے ۔سید شاہ شفیع عالم نے اپنی اولاد کی جس انداز میں تربیت کی وہ ان کا عظیم کارنامہ ہے۔ساتھ ہی گیا کربلا کے انتظام وانصرام میں اور علاقے کے عوام وخواص کے درمیان انھوں نے اپنا جو مقام بنایا وہ ان کی انفرادیت ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کی وفات پر بلا تفریق مذہب وملت بڑی تعداد میں لوگ اشکبار تھے اور جب ان کا جنازہ تدفین کے لیے جارہاتھا تو عوام کا سیلاب تھا۔گیا کربلا کی احاطہ بندی، گیا کربلا کی تزئینکاری، گنبد کی تعمیروتزئین بطور خاص قابل ذکر ہے۔انھوں نے زندگی بھر ہندو مسلم اتحاد کا علم بلند کیااور اس میں وہ بہت حد تک کامیاب بھی رہے۔بارہ ربیع الاول یا پھر عشرہ محرم کی تقریبات میں ہندومسلم اتحاد کی تصویر بتاتی تھی کہ سید شفیع عالم اتحاد ملت کے لیے اور بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے کس قدر سرگرم تھے۔اپنے اعلیٰ اخلاق وکردار کی بلندی کی وجہ سے نہ صرف گیا شہر کے عوام وخواص میں مقبول عام تھے ۔بلکہ پٹنہ ،جہان آباد، اورنگ آباد ،ساسارام اور نوادہ کے علاوہ بہار کے کئی اضلاع میںآپ کے مخلصین ومحبین کی بڑی تعداد موجودہے۔ آج ان کے چہلم پر میرے جو تاثرات ہیں وہ میں نے قلم بند کیے ہیں ۔ان کی خوردہ نوازی ، چھوٹوں کے ساتھ شفقت اور بڑوں کا احترام ، اپنے معاصر کی عزت نے انھیں امتیازی شان عطا کی ۔یہی اوصاف ان کے دونوں صاحبزادوں ڈاکٹر سید شبیر عالم اور شبر عالم میں بھی پائے جاتے ہیں۔اللہ سید شفیع عالم کی مغفرت فرماکر ان کے درجات کو بلند فرمائے اور ان کے کیے ہوئے کام کو آگے بڑھانے کی ان کے صاحبزادوں کو توفیق دے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں