194

آچاریہ ونوبابھاوے کی قرآن فہمی

عبدالماجد رحمانی قاسمی
ایم ، اے ، اسلامک اسٹڈیز ، جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی

(۱) ہندو دانشور ’’آچاریہ ونو با بھاوے ‘‘اور قرآن
بیسویں صدی کے مشہور سنت ، مجاہد آزادی، موہن داس کرم چند گاندھی کے شاگرد اور قریبی ساتھی ، بھودان تحریک کے عظیم راہ نما، ہندو اصحاب فکر میں قرآن کے بہترین ترجمہ نگار ’’آچاریہ ونوبابھاوے ‘‘کی شخصیت اور ان کی کتاب The Essence of Quran (روح القرآن ) کا ذیل میں ایک مختصر جائزہ پیش ہے۔
شخصی تعارف
آچاریہ ونوبا بھاوے ۱۱؍ ستمبر ۱۸۹۵ء کو مہاراشٹر کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوئے، ۲۱؍سال کی عمر میں گاندھی جی کی تحریرات اور عوامی تحریکات سے متاثر ہوکر پہلی مرتبہ ان سے جون ۱۹۱۶ء میں کوچربہ آشرم احمدآباد گجرات میں ملے، پہلی ملاقات کے بعد سے آخری دم تک گاندھی کے ہوکر رہے اور ان کی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ، اپنی پوری زندگی ملک عزیز ہندوستان کی خدمت میں گذاردی اور کبھی کوئی عہدہ و منصب قبول نہیں کیا ، ہاں البتہ ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت ہند نے ۱۹۸۳ء میں انہیں بھارت رتن اور پدم بھوشن کے اعزاز سے نوازا ہے ، ونوبا بھاوے نے گؤ کشی کو روکنے کے لئے مرن برت (تادم مرگ بھوک ہڑتال) کرتے ہوئے ۱۵؍ نومبر ۱۹۸۲ء کو اپنی جان دے دی ۔
ان کی زندگی کا ایک اہم پہلو ہے ، جو ان سب کے بیچ پردۂ خفا میں رہ جاتا ہے اور وہ ہے قرآن مجید کو سیکھنے سمجھنے کے لئے ان کی غیر معمولی سعی و کوشش اور پچیس سال کی طویل جد و جہد کے بعد قرآن مجید کے تعلق سے اپنی فہم و بصیرت کا خلاصہ اور حاصل مطالعہ کو افادۂ عام کے لئے تحریری شکل میں شائع کرنا ۔آچاریہ ونوبا بھاوے کے تعلق بالقرآن کے سفر کی ابتدا بہت دلچسپ اور قابل ذکر ہے، وہ واردھا مہاراشٹر میں گاندھی جی کے قائم کردہ ایک آشرم میں بچوں کو پڑھا تے تھے ، ان میں ایک مسلم بچہ بھی تھا ، اس بچے نے ایک دن بڑی معصومیت کے ساتھ درخواست کی کہ گروجی کیا آپ مجھے قرآن پڑھنا سکھا دیں گے ؟ بچے کے اس غیر متوقع سوال نے ونوبا بھاوے کی زندگی کو قرآن پڑھنے اور سمجھنے کی راہ پر گامزن کردیا ، پھر مسلسل محنت وکوشش کے ذریعے نہ صرف قرآن کو پڑھنا سیکھا؛ بلکہ آل انڈیا ریڈیو کی نشریات میں روزانہ بغور تلاوت قرآن سن کر اس فن میں مہارت حاصل کرلی اور قرآن کے معانی ومفاہیم کی سمجھ حاصل کرنے کے بعد اس موضوع پر The Essence of Quran (روح القرآن ) نامی کتاب بھی تحریر کردی ۔

ونوبا بھاوے کے معاون اچیوتبھائی دیش پانڈے نے لکھا ہے کہ جب مولانا ابوالکلام آزاد واردھا کے آشرم گاندھی جی سے ملنے آئے ،تو گاندھی جی نے ونوبابھاوے سے مولانا کے سامنے تلاوت کرنے کوکہا ، ونوبابھاوے نے جب تلاوت شروع کی، تو مولانا حیران رہ گئے کہ گاؤں کے حافظ جی سے کوئی اتنا اچھا قرآن پڑھنا کیسے سیکھ سکتا ہے ؟! تب انہیں بتایا گیا کہ وہ روزانہ ریڈیو پر قرآن کی تلاوت سن کر مشق کرتے ہیں، ونوبابھاوے جب تلاوت کرتے تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے تھے اور ان کی تلاوت سننے والوں پر بھی ایک خاص اثر چھوڑتی تھی ۔
قرآن سار : The Essence of Quran
یہ کتاب اردو ، ہندی ، انگلش ،گجراتی اور مراٹھی وغیرہ زبانوں میں شائع ہوچکی ہے، انگلش میں یہ “The Essence of Quran” اردو میں ’’روح القرآن ‘‘ اورہندی وگجراتی میں ’’قرآن سار‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہے ، آچاریہ ونوبا بھاوے اہنسا پر یقین رکھتے تھے ، لوگوں کو ایک دوسرے سے قریب کرنے اور اتحاد باہمی ورواداری کو فروغ دینے کو ہی اس کتاب کی اشاعت کا مقصد قرار دیتے ہیں، پوری کتاب کو ۹؍ ابواب میں
تقسیم کیا گیا ہے ، جن میں ۱۰۶۵؍(ایک ہزار پینسٹھ) آیات کا ترجمہ پیش کیا گیا ہے، اس کتاب کی اہم خوبی یہ ہے کہ ایک مضمون کی قرآنی آیات کو ایک باب کے تحت بڑی خوبصورتی کے ساتھ جمع کیا گیا ہے، جس سے قاری کو قرآنی مضامین کے سمجھنے میں بڑی سہولت ہوتی ہے، مثلاتوحید کے متعلق تمام آیتیں، جو مختلف سورتوں میں پھیلی ہوئی ہیں، انہیں باب “Oneness of God” (توحید ) کے تحت ایک مقام پر جمع کردیا ہے، جس سے قاری کے سامنے توحید کے تعلق سے قرآن کا واضح اور مجموعی تصور نمایاں ہوجاتا ہے ۔
اس کتاب میں ۹۰ ؍ ضمنی عناوین ہیں اور ان کے تحت ۴۰۰؍ ہیڈنگ قائم کئے گئے ہیں، یہ عناوین و سرخیاں ہی در اصل کتاب کی روح ہیں، خاص بات یہ ہے کہ اس میں مثبت انداز اختیار کیا گیا ہے ، کسی طرح کا کوئی منفی تاثر قائم کرنے کی کوشش نہیں کی گئی ہے، جو صاحبِ کتاب کی نیک نیتی اور شرافت کی دلیل ہے، قرآنی مفاہیم کی ترجمانی کے لئے جو عناوین وضع کیے گئے ہیں وہ اس قدر جانداراور با معنی ہیں کہ ڈاکٹر ضیاء الدین فلاحی لکھتے ہیں :’’ابواب بندی کی ندرت اور الفاظ کے انتخاب کو دیکھ کر قاری کو امام بخاری ؒ کے ابواب کی یاد تازہ ہوجاتی ہے ‘‘ ۔ (۱)
بطور نمونہ دو مقام کی ذیلی سرخیوں پر نظر ڈالنا مناسب ہوگا۔
(۱) شرک کا ابطال (Negation of Polytheism)
اس عنوان کے تحت یہ ذکر کیا گیا ہے کہ اگر بے شمار خدا ہوتے، تو کیا ہوتا؟ ایک غلام متعدد آقاؤں کا حق کس طرح ادا کرسکتا ہے؟ شرک مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور ہے ، خداکے مقابلے میں بت بے حد کمزور ہیں ، بت ایک مچھر کو بھی اپنے قبضہ میں نہیں کرسکتے ۔
(۲) مذہبی رواداری (Religious Tolerance)
مذہبی رواداری اس کتاب کا اہم عنوان ہے ، ونوبابھاوے نے اس عنوان کے تحت ۱۳؍ آیات کے ذریعہ انسانیت کو باور کرایا ہے کہ قرآن مجید عدم تشدد اور باہمی یکجہتی کا مذہب ہے، چند جھلکیاں ملاحظہ ہوں : ’’اسلام میں اکراہ اور زبردستی نہیں ہے ، تمام نبیوں پر ایمان لانا ضروری ہے ، حق کو قبول کرنے والے آپس میں بھائی بھائی ہیں، کفار کے بتوں کو گالی نہ دو ، اچھے کاموں میں مقابلہ کرو، خطبات میں یکجہتی کی بات کرو، جنت کسی مخصوص فرقے کی جاگیر نہیں ہے‘‘۔ (۲)
تجزیہ
بیسویں صدی جو تقسیم ہند سمیت کئی ہندو مسلم فسادات ، تشدد ، منافرت اور اسلام مخالف پروپیگنڈوں کی خوفناک یادیں اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے ، ان حالات میں ایک ہندو آچاریہ اور آشرم کے سنت کا اسلام کی بنیادی کتاب قرآن مجید کی یہ خدمت اور عصری اسلوب میں اس کے احکام وتعلیمات پر مثبت تاثرات پیش کرنا ،میں سمجھتا ہوں کہ یہ بجائے خود قرآن کا ایک معجزہ ہے ، اللہ کب کسے کس کام کی توفیق دیدے ، یقیناًیہ اس کی مرضی پر موقوف ہے؛ لیکن افسوس ! نئی نسل ونوبا بھاوے کے اس عظیم علمی کارنامے سے یکسر ناآشنا ہے، حالانکہ فرقہ وارانہ منافرت اور ہندو مسلم کے مابین بڑھتی ہوئی دوری کو ختم کرنے کے لئے اور ملک میں اتحاد و یکجہتی کو فروغ دینے کے لئے ونوبا بھاوے جیسے لوگوں کے حالات زندگی اور ان کی خدمات کی عمومی تشہیر کو ایک مؤثر اور کار گر ذریعہ قرار دیا جاسکتا ہے ۔ دعوتی مقاصد کے لئے اور برادرانِ وطن تک قرآنی تعلیمات کو پہنچانے کے لئے اس کتاب سے فائدہ اٹھانا اور اپنے غیر مسلم دوستوں کو یہ کتاب بطور ہدیہ پیش کرنا نہ صرف بہت مناسب بلکہ دانش مندی کا تقاضا ہے ۔

حواشی
(۱) دیکھیے :ہندو محققین کا مطالعہ قرآن مجید، ص:۱۵
(۲) تفصیل کے لئے دیکھیے : قرآن سا ر ، دراسات اسلامیہ کے فروغ میں ہندؤں کی خدمات اور ہندو محققین کا مطالعہ قرآن وسیرت ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

3 تبصرے “آچاریہ ونوبابھاوے کی قرآن فہمی

  1. ماشاءاللہ آپ کی تحریرقابلِ قدرہے،واقعی ملک کےموجودہ حالات میں برادرانِ وطن کےسامنےایسےامن پسندہدوں بھائیوں کےاسلام اورمسلمانوں کےتئیں نیک جذبات کااظہار بےحدمفیدثابت ہوگا۔اللہ تعالیٰ آں محترم کےاِس انتخاب کواپنی بارگاہِ بےنیازی میں شرفِ قبول مرحمت فرماۓ۔آمین

  2. ماشاء اللہ قابل ستائش ،لائق قدر ، بہترین و عمدہ مضمون ،انوکھا و دلکش تحریر اور اعلی انشاءگری ،یہ سب عام الفاظ ہیں .اس سے پرےحقیقتاً آپ کا یہ مضمون اس دور کے مناسبت سے قابل تقلید ہے. ایسےمضامین کی عصر حاضر کو شدید ضرورت ہے.
    ان نثر یات کا شمار اس میں ہوتا ہے جو تحریریں فرقہ پرستوں پر بر ق بے اماں ہے،جس سے اخوت و محبت کا پیغام جا تا ہےاورجو موجودہ زمانے کا حقیقی ترجمان ہے.
    امید کرتے ہیں کہ ایسے مضامین آپ کی جانب سے آئندہ بھی پڑھنے کو ملیں گے

اپنا تبصرہ بھیجیں