270

آپ کوعبایامیں گھٹن نہیں ہوتی؟

مریم محمد

دو چار دن پہلے ہسپتال جانا ہوا،کافی زیادہ رش کی وجہ سے ہم لوگ ویٹینگ روم میں بیٹھ گئے،
ہمارے ساتھ والی نشست پر ایک خوبصورت ینگ خاتون برا جمان تھیں، پہلے تو کافی دیر کوئی بات چیت نہ ہو سکی، بالآخر میں نے ہی گفتگو کا سلسلہ شروع کیاـ باتوں سے بات نکلی،تو بات پردے پر آ گئی،وہ
پوچھنے لگیں: کیا آپ کو نقاب میں گرمی نہیں لگتی؟ یہ سوال کوئی نیا نہیں ہے ہمارے معاشرے میں، اکثریت کا تقریبا یہی سوال ہوتا ہے، میں نے صرف نہ کہنے پر اکتفا کیاـ
وہ پھر بولیں: مجھے تو ایسے ہی بہت گرمی لگتی ہے، آپ کو نقاب میں بهی نہیں لگتی، کیا یہ سفید جھوٹ نہیں؟؟
“دیکھیں! اس میں سفید جھوٹ والی کوئی بات نہیں ہے، یہ گرمی اتنی ہی ہے،جتنی انسان برداشت کر سکے، اس سے زیادہ گرمی نہیں ہے، یہ سورج اللہ نے بنایا ہے اور اسے نے ہمیں اس گرمی میں پردہ کرنے کا حکم بھی دیا ہے ، آج سورج کڑوں اربوں میل کے فاصلے پر ہے، تو بھی ہم گرمی کا رونا رو رہے ہیں، اگر سورج بالکل ہمارے سر پہ کهڑا ہوتا اور اللہ ہمیں پردبےکا حکم دیتے، تب بھی ہم میں یہ ہمت نہی تهی کہ ہم اس کی حکم عدولی کرتے، بس فرض تها،تو فرض تها؛لیکن کیا ہے کہ اللہ ہم لوگوں پہ اتنا ہی بوجھ ڈالتے ہیں، جتنا ہم برداشت کر لیں، اس سے زیادہ نہیں اور کیا آپ کو علم ہے کہ چودہ سو سال پہلے تپتے صحراؤں میں نہ بجلی تهی، نہ پانی، نہ پنکھا، نہ اے سی، تب بھی اس دور کی خواتین صحابیات نے اللہ کے حکم پر لبیک کہا تھا، بات مانی تهی، آج جبکہ ہمارے پاس زندگی کی ہر آسائش ہے، تو ہم گرمی کا بہانہ بنا کر اللہ کے حکم کو چھوڑ دیں؟
سب سے بڑی بات یہ ہوتی ہے کہ آپ کا محبوب کون ہے؟ کیا آپکا محبوب آپ کا نفس ہے؟؟ یہ معاشرہ؟ یا پھر آپکا محبوب آپ کا رب ہے؟
چودہ سو سال پہلے کی خواتین کا محبوب ان کا رب تھا، بات یہ ہے کہ دنیا کا سب سے مشکل کام محبوب کو ” نہ ” کرنا ہوتا ہے؛ اس لیے وہ عورتیں اپنے رب کو نہ نہیں کر پائی تھیں اورآج ہم اپنے نفس کو” نہ”نہیں کہہ پاتے ” ـ
انھوں نے کہا “صیح کہہ رہی ہیں آپ، مگر دیکھیں آج کی خواتین پردہ تو کرتی ہیں، مگر کس طریقے کا پردہ؟ چهوٹے دوپٹے ٹائٹ برقع، آدها چہرہ تو باہر جھلک رہا ہوتا ہے “ـ
میں نے جواب دیا “ہاں جی! یہ اس لیے کہ ہم معاشرے کو محبوب رکھتے ہیں، ہم سوچتے ہیں فیشن کا فیشن ہو جائے، رب بھی خوش اور معاشرہ بھی خوش؛لیکن ہمیں یہ نہیں معلوم کہ جن سے رب خوش نہیں ہوتا،ان سے معاشرہ بھی کبھی خوش نہیں ہو پاتا،پردہ ٹرینڈ کے مطابق نہیں، اللہ کے حکم کے مطابو ہونا چاہیے، ورنہ تو ہم مذاق کا نشانہ ہی بنیں گے صرف! “ـ
انھوں نے کہا “بالکل ٹھیک کہا آپ نے، میں نے زندگی میں کبھی پردہ نہیں کیا،مگر ایسی خواتین سے سخت کوفت ہوتی ہے مجھے “ـ
یہ کہہ کے وہ چلی گئیں، مگر میرا نمبر لے گئیں، آج مجھے ان کا میسج آیا، بولیں:”میں نے بہت سوچا ہے کہ مجھے کیا چیز زیادہ محبوب ہے، مگر حقیقت یہی ہےکہ مجهے اپنا نفس زیادہ محبوب ہے، آج میں پردہ کرنے کا فیصلہ کر رہی ہوں؛ کیونکہ میں اپنے رب کو محبوب رکھنا چاہتی ہوں،میں جان گئی ہوں کہ آپ دنیا میں ہر چیز کو راضی کر لیں، مگر رب کو راضی نہ کر سکیں، تو آپ خسارے میں ہیں!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں