99

آنکھوں کے اس پار

نایاب حسن 

فوزیہ رباب کاپہلاشعری مجموعہ”آنکھوں کے اس پار“کے نام سے منظر عام پرآیاہے۔ فوزیہ رباب اپنے مخصوص لب و لہجے کی وجہ سے نوجوان نسل کے ایک طبقے میں مقبول و مشہور ہیں،ہلکے پھلکے الفاظ اور سادہ انداز میں کہے گئے ان کے اشعار بعض دلوں کو اپنی طرف کھینچتے اور وہ ان سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔وہ جملوں کے دروبست پر زیادہ توجہ دینے کی بجاے خیالات کی راست ترسیل پر توجہ دیتی ہیں،ان کی لفظیات یاتعبیرات میں جدت یاتنوع نہیں ہے،البتہ معانی و افکار کی ادائیگی کا ایک منفرد اسلوب ہے،جوانہی کے ساتھ خاص ہے۔ان کے اظہار میں ایک قسم کی بے ساختگی ہے اور الفاظ و ادا میں ایک نوع کی بے تکلفی۔ان کے اشعار میں عام طورپر معانی و افکار کی گیرائی و گہرائی کی بجاے جذبات کا اُچھال پایاجاتا ہے،انھوں نے اپنے شعروں میں زیادہ تر جواں نسوانی احساسات کی ترجمانی اور نوجوان قارئین کو ایڈریس کرنے کی کوشش کی ہے۔سماج و سیاست اور معاشرت کے وہ موضوعات ابھی ان کے دائرہئ سخن میں نہیں آئے،جو عام انسانی زندگی کا لازمی حصہ ہیں،حالاں کہ ایسابھی نہیں ہے کہ انھوں نے ایسے موضوعات کو بالکل ہی مس نہیں کیاہے،بعض اشعار سماج و معاشرہ کے احوال کی عکاسی بھی کرتے ہیں،مگر مجموعی طورپر ان کی غزلیہ شاعری کاارتکازحسن وعشق کی رنگینیوں اور فراق و وصال کی نیرنگیوں پر ہے۔یہ موضوع اردو شاعری اور خصوصاً اردو کی غزلیہ شاعری کو وراثت میں ملاہے،ہر چھوٹا بڑا،قدیم و جدید شاعراپنی غزلوں میں ترجیحی بنیادپر اسی موضوع کو برتتاہے،اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ صنفِ غزل کی ماہیت ہی محبوب سے مکالمہ کی اَساس پر قائم ہے۔فوزیہ رباب نے عشق و حسن کے مختلف احوال،محبوب و محب کی کیفیاتِ دل اور فراق ووصال کے مناظر کو اپنے مخصوص والہانہ نسائی انداز میں بیان کیاہے۔چند مخصوص الفاظ وتعبیرات(شہزادہ،شہزادی،پاگل وغیرہ) کے ذریعے مختلف المعنی خیالات کو اداکرنے کا ان کا آرٹ قابلِ توجہ ہے۔ان کی غزلوں میں بعض اشعار بہت عمدہ ہیں اور اپنی معنویت اور حسن کی وجہ سے قاری کواپنی طرف متوجہ کرتے ہیں،مثال کے طورپر چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:نین تو یوں ہی تمھارے ہیں بلاکے قاتلاس پہ تم روز سنور جاتے ہو،حد کرتے ہو
ہرایک چہرے سے ایسا دھواں نہیں اٹھتایہ خاص روشنی ہوتی ہے خاص آنکھوں میں 
شہزادے یہ دنیافکرمیں غلطاں ہےجب سے میں ہوتم پر مائل شہزادے
زعم ہے تجھ کواگر اپنے قبیلے پہ توسنمیرے قدموں میں گرے تھے کبھی سردار ترے
اس نے اک بار کہاکوئی نہیں تم جیساتب سے میں لگنے لگی خود کوبھی پیاری پاگل
عشق بھی کرنا ہے،گھرکاکام بھییہ مصیبت بھی نئی ہے ان دنوں 
یہ ہجر جان سے کم پر تومانتاہی نہیں خداکاشکر کہ تم پریہ امتحاں نہ ہوا
ہزاراس کے پروں کو کترکے دیکھوتمپرندِفکر کہاں اب اڑان چھوڑے گا
پھربہکنااس پہ لازم ہوگیاجس نے پی تیرے گلابی جام سے
اپنے بارے میں سوچتے ہوئے ہمتیرے بارے میں سوچنے لگ جائیں ہم جسے دیکھ لیں فقط اک  بارسب کے سب اس کو دیکھنے لگ جائیں 
کیاکہوں کچھ پتانہیں چلتامیرے اوراس کے درمیان ہے کیا
اسی کالمس ہر اک رات سے جڑاہواہےوہ کون ہے جومری ذات سے جڑاہواہے
چاندنی رات سے محبت ہےتیری ہر بات سے محبت ہےتم کسی رات بھی چلے آنامجھ کو ہر رات سے محبت ہے
تم کیاجانوآنکھوں کی کیاحالت ہوخوابوں کاگرمحل گراناپڑجائے
تجھ میں ڈوبی تومجھے اپنی خبر ہی کب تھیمیں نے یہ دوسرے لوگوں سے سناہے میں ہوں 
دل بہلایاجاسکتا تھاملنے جایاجاسکتا تھاکچھ بھی پہلے جیسا کب ہےپھربھی آیاجایاجاسکتا تھا
علم و فن میں جوآج بونے ہیں ان کا سکہ سخن میں چلتا ہےفوزیہ رباب نے اپنی نظموں میں محبت کے روایتی جذبات کے علاوہ چند اہم عصری موضوعات پربھی قلم اٹھایاہے،مثال کے طورپر”بیٹیاں“بہت خوب صورت نظم ہے،جس میں بیٹی کے مختلف فطری،سماجی واخلاقی اوصاف بیان کیے ہیں،”قلم اٹھاؤ“بھی اچھی نظم ہے،”سنوبرمی مسلمانو!“ایک دردانگیز نظم ہے،جس میں برماکے مسلمانوں پرہونے والے مظالم اور ان کے تئیں عالمِ انسانیت کی بے حسی پرماتم کیا گیا ہے۔دیگرنظمیں بھی اچھی ہیں۔کتاب کاظاہری سراپا نہایت شانداراور”لباسِ حریر“کامصداق ہے۔البتہ کہیں کہیں تحریرواملاکی غلطیاں راہ پاگئی ہیں،جنھیں امیدہے آیندہ ایڈیشن میں درست کرلیاجائے گا۔کتاب کی جوپہلی غزل ہے،اس کا نواں شعر یوں درج ہے:آنسوتجھ کو ڈھونڈیں ہیں دیوانہ وارشہزادی کی آنکھیں نم ہیں شہزادےپہلے مصرعے میں ”ڈھونڈے ہیں“درست ہوگا۔ایک غزل کا پہلا شعر ہے:اک بے ہنر کودادمیں ہربار تالیاں مجھ کوتولگ رہی ہیں سزاوارتالیاں ”سزاوار“سے یہاں کیامعنی مراد لیاگیاہے،سمجھ میں نہیں آیا۔سزاوار”لائق“کے معنی میں آتا ہے اور ہمیشہ کسی نہ کسی متعلق کے ساتھ استعمال ہوتا ہے،مثلاً میر کا شعر ہے: کیاجانوں عشق جان سے کیاچاہتاہے میرخوں ریزی کا مجھے توسزاوار کردیاانہی کاایک دوسراشعرہے:رہے گا ستم یہ بہت یادگارہوئے ہو سزاوارِطعنِ دوامایک غزل کاایک شعریوں درج ہے:آنکھیں رستہ تکنے پر معمور ہوئیں دل سے کیسے یاد مٹائیں آپ بتائیں یہاں موقع”معمور“کانہیں،”مامور“کاتھا۔دونوں لفظوں کے معنی میں بعدالمشرقین ہے۔ایک نظم ہے”مراخواب تھیں جومحبتیں“،اس میں ایک مصرع ہے”کئی شہربھی ہیں عداوتیں سے بھرے ہوئے“،یہاں ”عداوتوں“ہونا چاہیے تھا۔بہر کیف کتاب مجموعی اعتبار سے عمدہ،خوب صورت اور قابل مطالعہ ہے۔محترمہ فوزیہ رباب کو اس مجموعے کی اشاعت پرہدیہئ تبریک پیش ہے،امیدہے کہ جوں جوں ان کا شعری سفر آگے کی طرف بڑھے گا، ان کی تخلیقات میں توانائی،کلام میں تب و تاب اور اشعار میں جمال و کمال کا اضافہ ہوتاجائے گا۔کتاب عرشیہ پبلی کیشنز،دہلی سے حاصل کی جاسکتی ہے،چوں کہ طباعت بہت اعلیٰ درجے کی ہے،غالباً اسی وجہ سے ڈیڑھ سو صفحے کی کتاب کی قیمت پانچ سوروپے رکھی گئی ہے۔ Attachments area

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں