70

آلوک ورماکی برطرفی:کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے

عبدالعزیز
23؍اکتوبر 2018ء کی اندھیری رات میں یکایک سی بی آئی کے دفتر پر سرکار کی طرف سے چھاپہ مارا گیا ۔ ایسے تمام افسران کو ،جو سی بی آئی کے سابق سربراہ آلوک ورما کے تحقیقاتی کاموں میں مدد دے رہے تھے، ٹرانسفر کردیا گیا اور آلوک ورما کے ساتھ اسپیشل سی بی آئی ڈائرکٹر راکیش استھانہ کو چھٹی پر بھیج دیا گیا اور ایک نئے افسر ناگیشور راؤ کو عارضی طور پرسی بی آئی کا چیف ڈائرکٹر مقرر کر دیا گیا۔ حکومت کی طرف سے یہ جواز پیش کیا گیا تھا کہ چیف ڈائرکٹر اور اسپیشل ڈائرکٹر ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہے تھے ،جس کی وجہ سے حکومت کو یہ قدم اٹھانا پڑا۔ سوال یہ ہے کہ یہ معاملہ کئی مہینوں سے چل رہا تھا؛ لیکن اچانک اس پر کارروائی ہوئی اور وہ بھی رات کے اندھیرے میں۔ اس کی وجہ صاف ہے کہ وہ ساری کارروائی کے کاغذات، جو حکومت وقت کے خلاف تھے،انھیں ضبط کرنا تھا اور سی بی آئی کے سابق چیف ڈائرکٹر آلوک ورما کو حکومت کے خلاف کسی بھی کارروائی سے روکنا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جنگی طیارہ رافیل کے سودے کے معاملے میں وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف آلوک ورما ایف آئی آر درج کرنے والے تھے۔ ایک روز پہلے سپریم کورٹ کے وکیل پرشانت بھوشن، یشونت سنہا اور ارون شوری نے ان سے ملاقات کرکے شکایت کی تھی کہ رافیل کے معاملے میں کارروائی کیوں نہیں کی جارہی ہے؟ حکومت نے بھانپ لیا کہ وزیر اعظم کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آلوک ورما کو کسی قسم کی مہلت نہیں دی گئی اور انھیں چھٹی پر بلا تاخیر بھیج دیا گیا۔
تین مہینے کے بعد سپریم کورٹ نے حکومت کی اس کارروائی کو غلط قرار دیا؛ لیکن فیصلہ نامہ میں یہ بھی درج کیا کہ سہ رکنی اعلیٰ تقرری کمیٹی جو وزیر اعظم، چیف جسٹس آف انڈیا اور اپوزیشن لیڈر پر مشتمل ہے ،اس کی میٹنگ ایک ہفتے میں منعقد کی جائے اور جو الزامات آلوک ورما پر سی وی سی کی طرف سے لگائے گئے ہیں ،ان پر غور و خوض کرکے کوئی فیصلہ صادر کیا جائے۔ وقت ایک ہفتہ کا تھا ؛لیکن فیصلے کے دوسرے ہی روز وزیر اعظم نے میٹنگ بلالی۔ اپوزیشن لیڈر ارجن کھڑگے کی درخواست کے باوجود وزیر اعظم نے ایک دن کیلئے بھی میٹنگ ملتوی نہیں کی۔ مجبوراً اپوزیشن لیڈر کو شرکت کرنی پڑی اور دوسرے روز کی میٹنگ میں آلوک ورما کو صفائی کا موقع دیے بغیر دوسرے عہدے پر ٹرانسفر کردیا گیا اور سی بی آئی کے چیف ڈائرکٹر کی حیثیت سے انھیں برطرف کر دیا گیا۔ اپوزیشن لیڈر کھڑگے نے کمیٹی کے دو ارکان کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے یہ کہاکہ جو الزامات سی وی سی کی طرف سے لگائے گئے ہیں ، وہ بے بنیاد ہیں؛ اس لئے آلوک ورما کو ان کے عہدے پر برقرار رکھا جائے اور تین مہینے کیلئے ان کو چھٹی پر بھیج دیا گیا تھا ،انھیں بھی ان کی ملازمت کی مدت میں جوڑا جائے۔ 23؍اکتوبر کو جو سرکار کی طرف سے سی بی آئی دفتر پر چھاپے مارے گئے اور آلوک ورما کو بغیر وجہ بتائے چھٹی پر بھیج دیا گیا تھا، اس کی انکوائری کرائی جائے اور ورما پر جو گیارہ چارجز عائد کئے گئے ہیں، وہ بے بنیاد ہیں اور سی وی سی کے سربراہ کے وی چودھری بھی شک کے دائرے میں آتے ہیں؛کیونکہ انھوں نے سرکار کی ہاں میں ہاں ملانے کیلئے اور آلوک ورما کو ہٹانے کا راستہ صاف کرنے کیلئے یہ سب الزامات عائد کئے تھے۔
کانگریس کی طرف سے یا اس کے کسی لیڈر کی طرف سے اگر آلوک ورما کی برطرفی پر احتجاج کیا جاتا ہے یا آواز اٹھائی جاتی ہے، تو کوئی تعجب اور حیرت کی بات نہیں ؛لیکن بھاجپا کے کسی لیڈر اور خاص طور پر پارلیمنٹ کے ممبر سبرامنیم سوامی کی طرف سے اگر آواز بلند کی جاتی ہے کہ سی بی آئی ڈائرکٹر کو صفائی کا موقع دیئے بغیر ہٹانا حیرت ناک اور افسوسناک ہے، تو معاملہ انتہائی تعجب خیز اور قابل غور ہے۔ سبرامنیم سوامی نے ایک روز پہلے سی بی آئی کے ہیڈ کوارٹر جاکر آلوک ورما سے ملاقات کی تھی اور انھیں دوبارہ سی بی آئی کا ڈائرکٹر بننے پر مبارکباد دی تھی۔ سبرامنیم سوامی نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی کو صلاح دی تھی کہ بددماغ افسروں کی بات سن کر آلوک ورما کے خلاف کوئی کارروائی نہ کریں ؛کیونکہ سی وی سی نے جو رپورٹ پیش کی ہے ،وہ انتہائی بوگس ہے ۔ سبرامنیم سوامی نے مزید کہا ہے کہ آلوک ورما کو بغیر تحقیق اور صفائی کا موقع دیے بغیر ہٹاناوزیر اعظم کی طرف سے ایک ایسا قدم ہے، جو تاریخ کا حصہ بن گیا ہے۔ حکومت کو یہ بھی خوف تھا کہ آلوک ورما راکیش استھانہ کے خلاف جلد کارروائی کرسکتے ہیں اور انھیں جیل کی کوٹھری میں بھی ڈال سکتے ہیں؛ کیونکہ ان کے خلاف ایف آئی آر کیا جاچکا تھا۔ راکیش استھانہ وزیر اعظم نریندر مودی کے قریبی آدمی ہیں، انھیں آلوک ورما کے پیچھے شروع دن سے لگا دیا گیا تھا اور ایک نیا عہدہ راکیش استھانہ کیلئے گھڑا گیا تھا ،جو غیر دستوری تھا۔ یہی وہ چیز تھی، جس سے آلوک ورما بیحد ناخوش تھے۔ دوسری بات یہ بھی تھی کہ راکیش استھانہ حکومت کو وقتاً فوقتاً سی بی آئی کی طرف سے جو کارروائی ہوتی تھی، اس سے باخبر کرتے تھے۔ اس طرح ادارے کی خود مختاری مجروح ہوتی تھی۔
آلوک ورما نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سی بی آئی ایک ایسی تحقیقاتی ایجنسی ہے، جو کرپشن کے خلاف اعلیٰ عوامی جگہوں کی تحقیق اور تفتیش کرتی ہے،اسے آزاد اور خود مختار رہنا چاہئے، اس کا تحفظ بھی ضروری ہے، کسی خارجی دباؤ اور مداخلت کے بغیر اسے کام کرنا چاہئے؛ لیکن اسے خارجی مداخلت اور دباؤ درپیش ہے، جس کی وجہ سے یہ ادارہ مجروح ہورہا ہے۔ 23؍ اکتوبر 2018ء کو مرکزی حکومت اور سی و ی سی نے سی بی آئی کے دفتر پر جو کارروائی کی، اس کے دائرۂ اختیار سے باہر تھا اور یہ بہت ہی افسوس ناک ہے کہ بے بنیاد، من گھڑت الزمات عائد کرکے مجھے سچائی پرقائم رہنے کی وجہ سے ہٹایا گیا اور مجھے سی بی آئی کے چیف ڈائرکٹر کی حیثیت سے صرف اس لئے ہٹایا گیا کہ میں ادارے کو مجروح ہونے سے بچارہا تھا اور اس کی پاسداری اور تحفظ کیلئے کوشاں تھا۔
چھٹی دینے میں عجلت اور برطرفی اور میٹنگ بلانے میں جلد بازی ان تمام باتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے! اور یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم کی کئی دنوں تک راتوں کی نیند حرام تھی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے سے وہ گھبرائے ہوئے اور پریشان تھے۔ آخر کار چیف جسٹس کے نمائندے کی مدد سے ان کا مقصد تو پورا ہوگیا ؛لیکن بقول سبرامنیم سوامی وزیر اعظم کی کارروائی تاریخ کا ایک ایسا حصہ اور ایک ایسا باب بن گئی ہے، جو افسوسناک اور شرمناک ہے۔ آج دہلی ہائی کورٹ نے راکیش استھانہ کی ایف آئی آر رد کرنے کی مانگ خارج کردی اور گرفتاری پر لگی عارضی روک بھی ہٹا دی۔ آج اگر آلوک ورما اپنے عہدہ پر فائز ہوتے تو راکیش استھانہ جیل میں ہوتے، اسی لئے وزیر اعظم نے ہر کام بلاتاخیر کیا۔ تادم تحریر یہ خبر آئی ہے کہ آلوک ورما نے ڈی جی کا چارج لینے سے انکار کردیا اور اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔ اس طرح وزیر اعظم کی ساری کارروائی پر آلوک ورما نے پانی پھیر دیا؛ کیونکہ آلوک ورما کو ٹرانسفر کرکے وزیر اعظم نریندر مودی سبق سکھانا چاہتے تھے ؛لیکن ورما نے وزیر اعظم کی اس کوشش کو استعفیٰ دے کر ناکام بنا دیا۔ مسٹر ورما کے اس فیصلے سے اندازہ ہوتا ہے کہ بہت سے راز جو پنہاں ہیں، وہ جلد افشا ہوجائیں گے اور حکومت تفتیشی اعلیٰ ایجنسی کے ساتھ کیا کچھ کرنا چاہتی تھی سب کچھ طشت ازبام ہوگا اور سارا راز فاش ہوجائے گا۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں