207

آرٹیکل 370کے خاتمے پر خوشی منانے والوں کے نام

تحریر:ساکیت گوکھلے
ترجمہ:محمد عدنان
چندسال قبل ایک این جی او کے ساتھ کام کرنے والی میری ایک دوست نے کشمیرکے اسکولی بچوں کے لیے ممبئی ٹرپ کا انتظام کیاتھا، اس ٹرپ کے آخری دن بچوں کو ممبئی کے مختلف مقامات دکھائے گئے، ان سب کی عمریں 8 سے 14 سال کے درمیان تھیں۔میں اس کی مدد کرنے کے لیے ساتھ چلا گیا، شام کے وقت گھومنے پھرنے کے بعد ہم بچوں کو کھانے اورآئس کریم وغیرہ کے لیے باہر لے گئے، تو اچانک گروپ کی ایک 8 سالہ بچی نے مجھ سے وقت پوچھا۔میں نے کہا کہ: ساڑھے آٹھ بجے ہیں، اس کے بعد فورا ہی کچھ بچے اکٹھے ہو کر سرگوشی کرنے لگے، ان میں سے کچھ نے آئس کریم بھی پھینک دیا اور کہنے لگے ”ٹھیک ہے ہم تیار ہیں، چلو چلتے ہیں ” تو میں نے ان سے کہا: ارے ٹھیک تو ہے! اپناکھاناتوختم کرو،ہمارے پاس بہت وقت ہے، تو کچھ بچے حیرت زدہ اور ایک دم پریشان ہو کر دیکھنے لگے، ان کی آنکھوں میں خوف اور الجھن صاف دکھائی دے رہا تھا، آخر میں ایک دس سالہ بچی نے بات کی اور بولی کہ ”کرفیو کا وقت ہوا ہے بھیا،جلدی چلو!” جب میں نے ان سے کہا کہ ممبئی میں ایسا نہیں ہوتا ہے، تو انہوں نے حیرت سے میری طرف دیکھا،جیسے مجھے معلوم ہی نہ ہو کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔
گویایہ خیال کہ ملک کے دوسرے مقامات پر مستقل طور پرکرفیو نہیں رہتا ہے، ان بچوں کے لیے غیرمانوس اور چونکانے والا تھا، یہاں تک کہ 10 سال کی عمر کے بچے بھی جانتے تھے کہ ”کرفیو” کا مطلب کیا ہے اور یہ کتنا سیریس ہوتا ہے، انھیں اس حقیقت کے بارے میں بھی پتا نہیں تھا کہ ہندوستان میں ایسی جگہیں بھی موجود ہیں، جہاں حکومت کے نافذ کردہ کرفیو پر لوگ کوئی کام نہیں کرتے۔
میری ان تمام لوگوں سے گزارش ہے،جو آرٹیکل 370 کو غیر آئینی طور پر ہٹائے جانے پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں اور کشمیر میں زمین خریدنے کی بات کر رہے ہیں کہ اپنے بچوں کے ساتھ کچھ دن وہاں رہ کر دیکھیں۔اچھل کود کرنے اوربرسات میں اپنے گھروں سے بھی باہر نہیں نکلنے والے سنگھیوں کو چاہیے کہ اپنے بچوں کے ساتھ ایسی جگہ پر رہیں، جہاں کرفیو نافذ ہو، موبائل فون ڈِس کنیکٹ ہو اور جامہ تلاشی روزمرہ زندگی کا حصہ ہو۔
ہفتے کے آخری دن میں پارٹی کرنے کے بعد شراب پی کر ڈرائیونگ کرنے کی چیکنگ کرنے والی پولیس کی شکایت کرنے والے نمرودوں کو ایسی جگہ جاکر رہنا چاہیے،جہاں ہر 300 میٹر پر چیک پوائنٹ ہے اور جہاں آپ کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔
وہ لوگ جو اپنے دوستوں اور عزیزوں کویہ جاننے کے لیے مستقل فون کرتے رہتے ہیں کہ ”وہ کہاں تک پہنچے” ایسی جگہ پر رہ کر دیکھیں، جہاں ان کی فیملی راتوں رات غائب ہوسکتی ہے۔
کھانے پینے اور امیزون کو آرڈر دینے والے افراد کو ایسی جگہ پر رہنی چاہیے، جہاں زندگی بچانے کی خاطردوائیں خریدنے کے لیے کرفیو کے دوران باہر نکلنے کا مطلب موت کے خوف کے ساتھ زندگی گزارنا ہو، خواہ کسی آوارہ گولی کاشکارہونے کاخوف ہو یاکم سے کم جامہ تلاشی کا۔
آپ اپنے بچوں کے ساتھ کرفیو میں کچھ مہینے گذاریں اور ایسی جگہ پر تھوڑی دیر زندہ رہ کر دیکھیں،جہاں آپ کو بنیادی حقوق بھی حاصل نہ ہوں، پھر اس کے بعد کشمیریوں کے حقوق کو کچلنے اور ہمارے ہندوستانی آئین کو پامال کرنے پر جوش اور خوشی کا اظہار کریں۔
کچھ وقت ایسی جگہ گزاریں، جہاں حکومت آپ کے بنیادی حقوق بھی چھین لیتی ہے اور اس کے بعد صرف آپ کو یہ حق حاصل ہوتاہے کہ آپ اس آئین کی پامالی پر خوش ہوں، جس نے آپ کو وہ حقوق دیے تھے۔متعصب لوگ ایسانہیں کریں گے؛ کیونکہ ان میں میں سے ہر ایک کی شخصیت میں کچھ نہ کچھ ”ساورکر“گھرکیے ہوئے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں