403

آرایس ایس کی سہ روزہ تقریب: آخری دن کی خاص بات

نایاب حسن
آرایس ایس کا سہ روزہ لیکچرسیریز کاپروگرام ختم ہوگیا اورساتھ ہی اپنے پیچھے بے شمار سوالات،تحیرات اور تفکرات چھوڑگیا،سنگھ کے سربراہِ اعلیٰ موہن بھاگوت اس بارکلیتاً بدلے بدلے سے نظر آئے اور انھوں نے پروگرام کے پہلے اور دوسرے دن اپنی تقریروں میں ہندوستانی سیاست،تاریخِ آزادی اور مسلمانوں کے تعلق سے جوباتیں کہی تھیں،ان پرکل ہم نے مختصر تبصرہ کیا تھاـ آخری دن بھی انھوں نے سامعین و ناظرین کو اپنی باتوں سے محوِ حیرت کیا،ایسا لگتاہے کہ یہ پروگرام بڑی گہری منصوبہ بندی کے ساتھ کیاگیاتھااوریہ منصوبہ بندی یا تو بڑی خوب صورتی سے ہندوستان بھر ؛بلکہ پوری دنیاکوبے وقوف بنانے کی تھی یا پھر اس پروگرام کے ذریعے آرایس ایس کی ایک نئی روپ ریکھاتیار کرنے کی واقعی شروعات کی گئی ہے،ہاں !ان دونوں پہلووں کے ساتھ اس کے سیاق و سباق پر نگاہ رکھنا بھی ضروری ہے اور وہ ہے آنے والے قریبی مہینوں میں ہونے والے ریاستی و جنرل الیکشنز۔
بہرحال موہن بھاگوت اس سہ روزہ پروگرام میں ہر دن حاضرین،میڈیا اور ہندوستان بھر کوچونکاتے رہے،یہ سلسلہ آخری دن انھوں نے سوال جواب کے سیشن میں مختلف سوالات کا بڑی خود اعتمادی کے ساتھ جواب دیا،انہی سوالات میں سے ایک یہ تھاکہ آرایس ایس کے گروجی اور سنگھ کے دوسرے سربراہ مسٹر گولوالکر نے اپنی کتابBunch of Thoughtsمیں مسلمانوں کو ہندووں کا دشمن قراردیاہے،کیاسنگھ ان کے اس قسم کے خیالات و افکار سے متفق ہے؟سنگھ کے تئیں مسلم سماج میں جو خوف کی نفسیات پائی جاتی ہے،اسے سنگھ کیسے دور کرے گا؟اس سوال کے جواب میں سنگھ سربراہ نے کہا:ارے بھائی!ہم ایک دیش کی سنتان(اولاد)ہیں،بھائی بھائی جیسے ہیں؛اسی لیے سنگھ کواقلیت جیسے لفظ کے تئیں تحفظ ہے(قابلِ ذکرہے کہ مولاناابوالکلام آزادبھی ہندوستانی مسلمانوں کواقلیت سمجھنے، لکھنے اوربولنے کے سخت خلاف تھے، البتہ اس کاپس منظرکچھ الگ تھا)سنگھ اس کو نہیں مانتا،سب اپنے ہیں،دورگئے تو جوڑناہے،اب رہی بات بنچ آف تھاٹس کی،توباتیں جوبولی جاتی ہیں،وہ مخصوص احوال اور مخصوص سیاق و سباق میں بولی جاتی ہیں،ان کی معنویت دائمی نہیں رہتی۔ان کاکہناتھاکہ: ایک بات یہ ہے کہ گروجی کے جو دائمی افکارہیں،ان کا ایک مجموعہ مشہور ہواہے،اس میں اُس وقت کے سیاق و سباق میں کہی جانے والی باتیں ہٹاکر جو ہمیشہ کام آنے والے افکارہیں،انھیں ہم نے لیاہے،سنگھ بند سنگٹھن نہیں ہے کہ ہیڈگیوار جی نے کچھ جملے بول دیے،تو ہم انہی کو لے کر چلیں،سمَے کے ساتھ چیزیں بدلتی ہیں۔
ہائے!بھاگوت جی نے کتنی اچھی باتیں کی ہیں،انھوں نے گولوالکر یا ہیڈگیوار کے حوالے سے جوکہاہے ،وہ ایک تنظیم اور ذراپھیلاکردیکھیے، تو ایک پوری قوم کے لیے زریں اصول کی حیثیت رکھتاہے،بہت سے اصول اور بہت سی باتیں بعض مخصوص زمانے میں،مخصوص سیاق و سباق کے تحت ،مخصوص افراد یاجماعتوں کو سامنے رکھ کہی یا لکھی جاتی ہیں اور ایک مدت کے بعد ان باتوں کی معنویت ختم ہوجاتی ہے یا ان کی غلطی واضح ہوکر سامنے آجاتی ہے،تولوگ ان سے دامن چھڑالیتے ہیں۔کئی مسلم جماعتوں کے ساتھ بھی ایسا ہوتا رہاہے کہ ان کے اولین سربراہوں نے مختلف مسئلوں میں کوئی موقف اختیار کیا،پھر اس کا زبانی اظہار کیایااپنی کتابوں میں لکھا،مگر ایک زمانے کے بعد ان کے متبعین نے اس موقف سے دامن چھڑالیا؛بلکہ اسے کتابوں سے بھی باہر کردیا۔سنگھ سربراہ نے بھی سوال کے جواب میں یہی کہاہے کہ گولوالکرکے بہت سے اقوال یاافکارموجودہ زمانے میں آؤٹ ڈیٹڈہوچکے ہیں، ان کی معنویت ختم ہوگئی ہے اوران کے جوافکارموجودہ دورمیں بھی قابلِ اخذواستفادہ ہیں، ان کاایک مجموعہ سنگھ نے شائع کروایاہے؛ لہذااب وہی قابلِ اعتبارہے، اب گولوالکرکی ہرتحریر، تقریریاتصنیف قابلِ اعتبارنہیں ہے ـ مگرسوال یہ پیداہوتاہے کہ کیاان کی یہ بات موجودہ وقت میں سنگھ کے نظریاتی وعملی منصوبے میں بھی شامل ہے؟ کیاسنگھ سے وابستہ ادارے اورافرادبھی ایساہی مانتے ہیں؟ جوبات انھوں نے بنچ آف تھاٹس کے متعلقہ کے حصے کے حوالے سے سے کہی ہے،کیاعملی سطح پراس کاپہلے سے وجودہے یامحض انھوں نے بات بنائی ہے ـ ویسے اس پورے پروگرام میں سنگھ سربراہ نے جس قسم کی باتیں کہی ہیں، انھیں دیکھتے ہوئے تفریحاً ہی سہی، بعض لوگوں کاخیال ہے کہ اب سنگھ بی جے پی کی بجاے کانگریس کو “گود “لینے والاہے،کہایہ بھی جارہاہے کہ چوں کہ مودی حکومت اپنی موجودہ مدتِ کارمیں تقریباناکام رہی ہے؛ اس لیے آیندہ انتخابات کے متوقع منفی نتائج کے اندیشے سے سنگھ بی جے پی سے دامن چھڑارہاہےـ
بہرحال آرایس ایس کے حالیہ اجلاس نے کئی سطحوں پرایک نئی بحث چھیڑدی ہے، ایک بڑاسوال یہ پیداہورہاہے کہ کیا سنگھ آنے والے قریبی دنوں میں کچھ اوربھی حیران کن اقدامات کرنے والاہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آرایس ایس کی سہ روزہ تقریب: آخری دن کی خاص بات” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں