128

آخری بات

یوسف رامپوری
میں تمھارا واٹس ایپ نمبر بند کرنے جارہاہوں شائستہ! یہ ہماری واٹس ایپ پر آخری ملاقات ہے۔تم نے مجھے پچھلے دوسال کے عرصے میں بہت وقت دیاہے ۔میں اس کے لیے تمھارا شکرگزار ہوں۔وہ باتیں جو تم سے واٹس ایپ پرہوئیں ،وہ صرف گزرے ہوئے کل کی یادیں نہیں،میرے لیے قیمتی اثاثہ ہیں ….میرا ماضی ہیں….اور میرا مستقبل بھی۔
میں جانتا ہوں شائستہ کہ اب تم مجھ سے بات نہیں کرنا چاہتی ہو ۔ اب میرے لیے واٹس ایپ پرچندلفظ لکھتے ہوئے بھی تمھیں کوفت ہوتی ہے۔ تمھاری ساری گفتگو صرف ان الفاظ میں سمٹ کررہ گئی ہے: ’’ہاں..ہوں….نہیں…تو…اچھا…کیوں؟…کیا؟… معلوم نہیں..میں کیاکروں…‘‘۔ بات کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے بند کرنے سے پہلے میں کچھ کہنا چاہتا ہوں جو کبھی کہہ نہیں پایا۔ کچھ لمحات مجھے اور برداشت کرلو ۔
شائستہ! تمھیں یاد ہوگا کہ ہمارے درمیان گفتگو کی شروعات کب اور کیسے ہوئی تھی؟اب سے دوسال پہلے رات کے دس بجے تم نے واٹس ایپ پر لکھا تھا:’’آپ کون ہیں؟مجھے آپ کا یہ نمبر اپنے چھوٹے بھائی کی کتاب پر لکھا ہوا ملا ہے؟‘‘میں نے اپنا نام اور پتہ بتادیا تھااور تم نے بھی مبہم الفاظ میں اپنا مختصر تعارف پیش کردیا تھا…..اور پھر اگلے چند دنوں میں واٹس ایپ پرہونے والی گفتگو کے ذریعے ہم دونوں ایک دوسرے کے بارے میں کافی کچھ جان گئے تھے۔
اب واٹس ایپ پر ہم روزانہ بات کرتے تھے۔ٹھیک دس بجے ہمارے اور تمھارے درمیان گفتگو شروع ہوتی اور رات کے ایک دو بجے تک چلتی رہتی ۔نیم شب تک جاگنے کی وجہ سے میں عموماً صبح دیر سے اٹھتا ۔فجر کی نماز تو قضا ہوتی ہی ، بیڈ منٹن کھیلنے کے لیے بھی کورٹ نہیں پہنچ پاتاتھا یا دیر سے پہنچتا ۔میرے اس بدلتے معمول پر میرے دوستوں نے کئی بار ٹوکا:’’ کیابات ہے…. آج کل مسجد میں بھی نہیں دکھائی دیتے اورکھیلنے بھی دیر سے پہنچتے ہو ۔کیا رات کو جاگتے رہتے ہو؟…کیا کوئی پریشانی ہے …یاکوئی اور بات ہے….۔میں اکثر کوئی نہ کوئی بہانہ بنادیا کرتا تھا۔ مجھے اب ہر چیز سے زیادہ تم سے بات کرنا اچھا لگتاتھا۔
ایک دن میں نے سوچا کہ کیوں نہ فون پر بات کرکے ہم واٹس ایپ سے کچھ دیر کے لیے باہر آئیں ۔چنانچہ میں نے تمھیں وائس کال کردی۔ تم نے قدرے توقف کے بعدکال رسیو توکرلی مگر وائس کال میں گرمجوشی کا مظاہرہ نہ کیا۔پھر بھی میں نے تم سے پوچھ لیا کہ کیا میں کبھی کبھی کا ل کرسکتاہوں؟
’’ یہ مناسب نہیں ہے ۔ میرے گھر والوں کو پتہ چلے گا تو وہ ناراض ہوجائیں گے….‘‘۔تم نے جواباً کہا تھا۔
تمھاری مجبوری کو میں نے محسوس کیا اور پھر کبھی فون نہ کیا ۔ صرف واٹس ایپ تک اپنی بات کو محدود رکھا۔کئی بار تم میری باتوں کا بڑی دلچسپی سے جواب دیتیں ،اپنی اور اپنے گھر والوں کی باتیں بتاتیں،مختلف موضوعات پر کھل کر تبادلۂ خیال بھی کرتیں تو مجھے لگتا کہ اب ہمارے درمیان اجنبیت کے فاصلے ختم ہوگئے ہیں اور ہم ایک دوسرے کے قریب آگئے ہیں۔ مجھے تم سے محبت ہوگئی ہے اورشاید تمھیں بھی ۔
تمھیں یہ بھی یادہوگا شائستہ !کہ ایک دن میں اپنے دوست کے ساتھ تمھارے اسکول پہنچ گیا تھا ۔ ہم دونوں نے پرنسپل سے اسکول کے نصاب اور خصوصیات کے بارے میں کئی سارے سوالات کیے تھے ۔انھوں نے تفصیل سے ہمارے سوالو ں کے جوابات دیے اورکلاس روم دکھاتے دکھاتے ہمیں تمھاری کلاس میں بھی لے گئے اورتمھاری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:’’ یہ شائستہ میڈم ہیں۔‘‘ میں نے تمھیں پہلی بار دیکھاتھا ۔ میرا دل تیزی سے دھڑ کنے لگاتھا ۔کئی یادیں اور کئی باتیں ذہن میں آئی تھیں….۔
معمول کے مطابق رات کو جب ہماری واٹس ایپ پر بات شروع ہوئی تو تم نے کچھ اس طرح کے جملے لکھے تھے۔’’ تم مجھے دیکھنے کے لیے وہاں کیوں گئے؟ کیا تم مجھے رسوا کرنا چاہتے ہو؟ ایک باراور تم مجھے میرے راستے میں بائک پر دکھائی دیے تھے…..۔‘‘
میں نے کچھ کہنے کی کوشش کی لیکن تم نے ایک نہ سنی اور سختی سے کہہ دیا کہ’’نہ تم میرے راستے میں آؤ گے ، نہ میرے اسکول جاؤگے اور نہ مجھے فون کروگے، ہماری بات چیت صرف واٹس ایپ تک ہی رہ سکتی ہے۔‘‘تمھاری اتنی تلخ گفتگو کے بعد مجھے رات بھر نیند نہیںآئی ۔ بار بار یہ سوال ذہن میں گردش کرتا رہا کہ یہ ہماری اور تمھاری کیسی دوستی ہے کہ ہم ایک دوسرے کی آواز نہیں سن سکتے اور روبرو بھی نہیں ہو سکتے….کیا واٹس ایپ محض وقت گزاری اور دل لگی کا سامان ہے…مگر یہ تو ایک دھوکہ ہے، وقت کا ضیاع ہے،کتنے لوگوں کی قیمتی زندگیاں اس کے ذریعے برباد ہورہی ہوں گی۔آج کل تو ہر ایک شخص واٹس ایپ پر لگا رہتاہے ، کیا سب دھوکے میں مبتلاہیں اور یوں ہی بے معنی اپنا انمول وقت ضائع کررہے ہیں۔میری طرح کتنے لوگ اپنے دن اور رات کا سکون غارت کررہے ہیں۔میں نے کتنی ہی راتیں اسی واٹس ایپ کی نذرکردیں…، اپنی زندگی کا نظام درہم برہم کردیا….، گھر کے بہت سے تقاضوں کو پیچھے چھوڑدیا…، دوستوں کو نظرانداز کردیا…، بحیثیت استاد اپنے تدریسی کام میں دلچسپی نہ لے کر بچوں کا تعلیمی نقصان کردیا جس کی تلافی ناممکن ہے…..۔واٹس ایپ کا دائرہ اتنا تنگ ہوتاہے میں نے سوچا نہ تھا۔
شائستہ! تم واٹس ایپ کے حصارسے باہر آنے کے لیے تیار نہ تھیں لیکن میں واٹس ایپ سے آگے کی سوچ رہا تھا۔ایک رات جب دل کو مضبوط کرکے میں نے معمول کے مطابق بات شروع کی تو تمہید کے طورپر کچھ رومانوی فضا باندھی ،اور پھر اپنی محبت کا اظہار بھی کردیا اوریہ بھی کہ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ تم زور سے ہنسیں …..اور تم نے کہا : ’’اتنے سنجیدہ کیوں ہورہے ہو؟ ہم اچھے دوست ہیں۔ میں محبت اورپیار ،وِیارکو نہیں مانتی ۔شادی کے بارے میں میرے گھرے والے جانیں ، جہاں وہ کریں گے ،میں وہیں راضی ہوں….۔‘‘
تم نے یہ بات بہت آسانی سے کہہ دی تھی اور اپنا فیصلہ بھی سنادیا تھا ، مگران جملوں نے میرے کئی خواب چکنار چور کردیے تھے۔تمہارے نزدیک واٹس ایپ پر بات چیت صرف دل لگی ہی رہی مگرمیرے لیے دل کی لگی بن گئی۔میں پوری رات کروٹیں بدلتا رہا تھا ۔میں نے اپنی مرضی کو تمھاری مرضی کے تابع کردیاتھا۔ پھرنہ تمھیں کال کی اور نہ دیکھنے کی کوشش ۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ تمھیں میری وجہ سے تکلیف پہنچے ، اور تم مجھ سے تعلق ختم کرکے واٹس ایپ پر بھی بات چیت کا سلسلہ بند کردو۔ واٹس ایپ پر بات کرکے کم سے کم دل کو توسکون مل جاتا ہے….۔کئی بار مجھے لگتا کہ تم بھی مجھ سے پیار کرنے لگی ہو۔اگر تمھیں مجھ سے کوئی لگاؤنہ ہوتا تو روزانہ رات کے دس بجے سے ایک دو بجے تک کیوں جاگتیں ۔ شاید تمھیں اپنے گھروالوں سے ڈر لگتا تھا اور سماج سے بھی کہ اگر کسی کو ہمارے اور تمھارے درمیان کی محبت کا پتہ چلا توکیسی کیسی باتیں بنیں گی۔ پھر تم شرمیلی لڑکی بھی تھیں اور دیندار بھی۔
کچھ دن پہلے تم نے لکھاتھا :’’ ہماری اور تمھاری اگلے دو دنوں تک واٹس ایپ پربات نہیں ہوسکے گی۔ میں اپنے گھر والوں کے ساتھ نینی تال جارہی ہوں۔‘‘
دو دن کیسے گزریں گے ؟یہ سوچ کرمیں پریشان ہوگیا تھا۔رات بھر قرار نہ آیا،دن بھی جیسے تیسے بسر ہوا ۔پھرپہاڑ جیسی رات سر پرمسلط ہوگئی۔میں نے کئی بارتم سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر کامیابی نہ ملی۔ بالآخر میں نے صبح نینی تال جانے کا ارادہ کرلیا۔چاہے انجام جو بھی ہو، دیکھاجائے گا۔
نینی تال میرے شہر سے ڈھائی سو کلومیٹر دور تھا۔ایک ساتھی کو ساتھ لے کر صبح نو بجے میں بائیک پر نینی تال کے لیے روانہ ہوگیا۔پانچ گھنٹے کی مسلسل ڈرائیونگ کے بعد کئی شہروں ،قصبوں اور گاؤوں کو پیچھے چھوڑ تا ہوا میں نینی تال پہنچ گیا۔میری نگاہوں نے بہت جلد تمھیں ڈھونڈ لیا ۔ ساتھی کودور بٹھاکر میں تمھارے پاس چلا گیا ۔تم مجھ سے ملی تو تھیں مگر تمھارے رویے سے مجھے مایوسی ہوئی۔ تمھیں وہاں میری موجودگی اچھی نہ لگی تھی ۔
پانچ بج چکے تھے ، سورج تیزی سے مغرب کی طرف بڑھ رہا تھا۔اب تمھیں بھی واپس ہونا تھا اور مجھے بھی۔تمھارے پاس کار تھی اور میں بائیک پرسوار تھا۔ رات کی تاریکی اور اجنبی راستہ کی وجہ سے میں نے اپنی بائیک تمھاری گاڑی کے پیچھے ڈال دی کیوں کہ دونوں کا رخ ایک ہی شہر کی طرف تھا مگر ایک جگہ ٹرافک سے مجھے نکلنے میں لمحہ بھر کی تاخیر ہوئی۔اس اثناء میں تمھاری گاڑی آگے چلی گئی ….. اور آنکھوں سے اوجھل ہوگئی ۔تم نے اورتمہارے گھروالوں نے میری کوئی پرواہ نہ کی تھی ۔اب میں تھا ،میرا ساتھی اوراجنبی راستے ۔
شام ڈھل چکی تھی….ہر طرف اندھیرا چھاگیا تھا…۔کاروں،ٹرکوں اور بسوں کی لمبی لمبی لائٹیں میری آنکھوں کو چکاچوند کررہی تھیں…۔مجھے رات میں بائیک چلانے کی بالکل بھی عادت نہ تھی لیکن اس رات میں اپنی عادت کے برخلاف کبھی چوکناہوکر اورکبھی اندازے سے ڈرائیونگ کررہاتھا۔ میری بائیک کی رفتار خاصی تیزتھی ۔ایک بارتو صحیح اندازہ نہ ہونے کی وجہ سے میری موٹر سائیکل کا پہیہ گڈے میں آگیا،مگر کسی طرح میں موٹر سائیکل کو قابوکرنے میں کامیاب ہوا ۔ اگر وقت پر مجھے بائیک کوکنٹرول کرنے میں کامیابی نہ ملتی تو نہ جانے کیا ہوتا…۔اس واقعے کے بعد بھی میں نے بائیک کی رفتار کم نہ کی اور قدم قدم پر خطرہ مول لیتا رہا۔دراصل مجھے اپنی جان کی ذراپرواہ نہ تھی ۔میرے اوپر جذباتی کیفیت طاری تھی ۔ میں نے تمھیں دیکھنے اورتم سے ملنے کی خاطرصبح متواتر ڈھائی سو کلومیٹر کا سفر طے کیا تھا اورپھر ایک دوگھنٹے کے وقفے کے بعد اتنے ہی لمبے سفر پر روانہ ہوگیاتھا۔واپسی میں تمھارا روکھا برتاؤ مجھے چڑا اور بے چین کررہاتھا۔
ابھی مشکل سے ستّراسّی کلومیٹر کاراستہ ہی طے ہوا ہوگا کہ مغرب کی طرف سے ہواکے تیز جھونکے آنے لگے۔سڑک،جنگل اورآسمان گرد و غبارمیں اَٹ گیا۔ یہ تیز وتند آندھی تھی۔ مجھے بائیک کو روک کر محفوظ جگہ تلاش کرنی چاہیے تھی ،لیکن دور دور تک ایسی کوئی جگہ نظرنہ آتی تھی۔پھر مجھے بھی اپنی جان سے کچھ لینا دینا نہ تھا۔ہاں پیچھے بیٹھے ساتھی کا خیال ضرور تھاکہ اسے میری وجہ سے پریشانیاں اٹھانی پڑرہی تھیں۔ آندھی اورتیز ہوگئی تھی اوریوں محسوس ہونے لگاتھاکہ ہم موٹر سائیکل سمیت اڑجائیں گے۔اتنے میں سڑک کے کنارے کھڑے درختوں کی شاخیں ٹوٹ ٹوٹ کر نیچے گرنے لگیں۔بعض پیڑ بھی تیز جھونکوں کی تاب نہ لاکرجڑسے اکھڑ نے لگے۔ اب ہم پوری طرح خطرات کی زد میں تھے۔ نہ جانے آندھی کا کون ساجھونکا ہمیں اڑالے جائے یا بائیک کاتوازن بگاڑ دے اورہم گہری کھائی میں جاپڑیں۔اب تیزبارش بھی ہونے لگی تھی۔ہمیں اندھیرے میں ایک پرانی بلڈنگ کے نیچے قریب ایک گھنٹہ تک کھڑا رہنا پڑا۔ رات کے دس بجنے والے تھے۔جیسے ہی بارش اور ہوا تھوڑی ہلکی ہوئی پھر میں نے بائیک کواسّی پچاسی کلومیٹر کی رفتار سے سڑک پر دوڑایا۔ رات کے ایک بجے میں اپنے گھر پہنچ گیاتھالیکن مجھے اپنے زندہ رہنے پر حیرت تھی۔ اس دن مجھے اس بات کا یقین ہوگیاتھا کہ موت کا وقت متعین ہے۔اگر ایسا نہ ہوتا تو شاید ہم زندہ واپس نہ آتے۔
میں بستر پردراز ہو چکا تھا مگر اتنے لمبے سفر اور تھکاوٹ کے باوجود نیند آنکھوں میں دور دور تک نہ تھی ۔ میں سوچ رہا تھا کہ شاید تم میرے لیے پریشان ہوگی کہ میرا کیاہوا؟زندہ رہا یا….۔ پھر دوسرے ہی لمحہ یہ خیال آجاتاکہ شاید تمھیں کوئی احساس نہ ہوگا،تمھیں مجھ سے اور میری جان سے کیا لینا دینا۔رات میں کئی بار آنکھ لگی مگر ہر بار ڈراؤنا خواب دکھائی دیا جیسے میں آندھی میں بائیک چلا رہا ہوں ، سڑک کے کنارے کھڑے ہوئے درخت میرے اوپر گررہے ہیں ، کبھی دیکھتا کہ آندھی مجھے بائیک سمیت اڑالے جارہی ہے ۔
اگلے دن رات کے دس بجے جیسے ہی واٹس ایپ پر تم سے بات شروع ہوئی،تم نے سلام کا جواب دے کر مجھ پر برسنا شروع کردیا:’’تم وہاں کیوں گئے تھے؟ کیا تم مجھے سارے زمانے میں بدنام کرنا چاہتے ہو؟ میں نے تم سے کہا تھا کہ ہماری تمھاری دوستی صرف واٹس ایپ تک ہے، اس سے آگے کچھ نہیں ۔مگر تم میرا تعاقب کرتے ہو ، تم مجھے جینے نہیں دینا چاہتے، میں تمھیں شریف انسان سمجھتی تھی مگر تم توبدتمیزی اور بدتہذیبی پر اتر آئے۔ میں تم سے بات نہیں کرنا چاہتی تو تم میرے پیچھے کیوں پڑے ہوئے ہو۔‘‘تمھارے ان جملوں نے مجھے نڈھال کردیا تھا ۔
مسلسل کئی روزکی بے چینی وبے قراری اور غور وفکر کے بعداب میں اسی وقت ہمیشہ کے لیے تمہارا واٹس ایپ نمبر بلاک کررہاہوں مگراس سے پہلے ایک آخری بات ضرورکہنا چاہوں گا کہ آئندہ کسی سے واٹس ایپ پردل لگی نہ کرنا۔ایسا نہ ہوکہ کوئی اور بھی میری طرح تمھاری محبت کا اسیرہوکر اپنی زندگی سے بیزار ہوجائے۔خداحافظ !

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں