91

آئیے مل جل کر عوامی سنگھرش کریں!

ڈاکٹر حسن رضا

(سرپرست یو ایم ایف جھارکھنڈ)

اس وقت ہندوستان میں جو نظریاتی گروہ برسر اقتدار ہے وہ  ملک کے جمہوری نظام میں ایک سیاسی پارٹی کے پس پردہ الکشنی سیاست کے عوامی کھیل کی مہارت ، اس کے جوڑ توڑ، داؤپیچ ، اٹھا پٹخ، خرید وفروخت، جھوٹ سچ، اور ای وی ایم کے چھیڑ چھاڑ کے ذریعے ہی اقتدار پر قبضہ جمانے میں کامیاب ہوا ہے ۔جمہوری سیاست کا ملک کے عام انسانوں کی فلاح و بہبود سے اس طرح خالی ہوکر اقتدار کا کھیل بن جانا اور فرقہ پرست قوتوں کے ایجنڈے کے مطابق ملک کے ہر مسئلے کو قومی کشمکش کے چشمے سے دیکھ کر ووٹ دینا ملک میں جمہوری اور انسانی قدروں کا اصل زوال ہے۔

             لیکن  سب سے بڑی مشکل یہ آئی ہے کہ یہ گروہ اس جمہوری تماشے کا بھی سچے دل سے قائل نہیں ہے، جس  کے ذریعے وہ اقتدار کے مسند پرآج براجمان ہوا ہے۔اچھی طرح ان لوگوں کومعلوم  ہے کہ اس جمہوری کھیل میں بہر حال الٹ پھیر اور تبدیلی کا ڈر لگا رہتا ہے لہذا وہ لوگ اس عوامی پروسس، دستور کے جمہوری ڈھانچے،  ادارے اور روایات کو ترچھی نظر سے دیکھتے آرہے ہیں۔ کیوں کہ یہ جمہوری روایات ان کے عزائم کی تکمیل میں  بڑی رکاوٹ ہیں۔ آزاد ہندوستان کے آئین نے جو جمہوری قبا اس ملک کو پہنا کر آزادیِ مساوات، بھائی چارگی اور انصاف کی قدروں سے بنایا سنوارا ہے،  اس کو پوری طرح تار تار کیے بغیر ان لوگوں کو چین نہیں آسکتا ہے۔ اس گروہ کے خواب عام ہندوستانی عوام سے مختلف ہیں۔ ان کے ایجنڈے بالکل جدا ہیں۔ مختصراً یہ سمجھ لیجیے کہ ہندوستان کی قدیم ہند آریائی تہذیبی روایات کی برتری کا جنون پیدا کرکے، یہ لوگ وہ   سارے کام  اس  ملک میں انجام دیں گے جو اہنکار اور اقتدار کا نشہ اندھ وشواس کی افیون کے ساتھ مل کر دنیا میں کرتا رہا ہے۔ اندھ وشواس قوم کا سائنسی مزاج اور نفع نقصان، ترقی وتنزلی کا معیار ہی بدل دیتا ہے۔ اس میں تو طبیعت کو اس طرح ڈھالا جاتا ہے کہ لیڈر کی ہر بات پر ایمان لا نا آسان ہوجائے۔ اگر لیڈر بیان کر رہا ہے کہ ترقی ہو رہی ہے تو سب صرف زبان سےنہ کہیں بلکہ دل سے بھی سمجھیں  کہ ترقی ہورہی ہے۔ اس لیے ان پارٹیوں میں لیڈر شپ کا کر شمائی تصور پیدا کیا جاتا ہے۔ وہ فقط سیاست کے میدان میں  ایوان عام میں کسی ہاؤس میں منتخب حزب اقتدار کا لیڈر نہیں ہوتا ہے بلکہ قوم کی اجتماعی پیشوائی کے منصب پر فائز ہوتا ہے۔ اس کی جیت نیشن کی جیت اور اس کی ہار ملک کی ہار سمجھائی جاتی ہے۔  اب اس کا ایجنڈا  صرف ایک سیاسی پارٹی کا ایجنڈا نہیں بلکہ راشٹر کا ایجنڈا بنادیا جاتا ہے۔ اس کے لیے پورے سماج میں ہر جگہ ایسےہی اندھ وشواسی افراد تیار کیے جاتے ہیں۔  ان کو قوت کے ذیلی مراکز میں متعین کیا جاتا ہے اور مختلف تنظیمی نٹ ورک سے مربوط کرکے آپس میں پشت پناہی کا رشتہ استوار کردیا جاتا ہے جس سے زیر زمین مضبوط نظم سا قائم ہو جاتا ہے۔اور یہی سب کچھ اس ملک میں گزشتہ ستر برسوں میں آہستہ آہستہ کیا گیا ہے۔

اب تو یہ لوگ منظم اور منصوبہ بند طریقے سے  ہر سطح پر اپنے علاوہ دوسروں کو زور زبردستی یا عیاری اور چالاکی سے دوسرے درجے کا شہری بن کر رہنے پر راضی رکھنے کے لیے ہر طرح کا حربہ استعمال کررہے ہیں۔

سچی بات یہ ہےکہ اب جمہوریت کے بنیادی اداروں کو بچانا سیکولر سیاسی جماعتوں کے بس سے  باہر ہوگیا ہے۔ حالاں کہ جمہوریت میں سیاسی پارٹیوں کا وجود اور مضبوط حزب اختلاف ہی جمہوریت کی بقا کا ضامن ہے۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ دھیرے دھیرے سیکولر اور علاقائی پارٹیاں ٹوٹ پھوٹ کی شکار ہوتی جارہی ہیں۔کہیں بھی مضبوط حزب اختلاف باقی نہیں رہ گیا ہے۔کارپوریٹ ورلڈ کی سانٹھ گانٹھ کے بغیر کسی پارٹی کا پنپنااب  ناممکن ہوگیا ہے۔ دوسری طرف موجودہ سیاسی لیڈروں میں اقتدار میں رہنے کی ایسی ہوس پیدا ہوچکی ہے کہ اقتدار سے باہر رہنے کی چھٹ پھٹاہٹ  ہر وقت محسوس ہو تی ہے اور یہ بہت افسوس ناک بات ہے۔ حد یہ ہے کہ اپوزیشن پارٹیوں کے ممبران، پارلیمنٹ ہاؤس میں جس بل کے خلاف بولتے ہیں  ووٹنگ کے وقت اسی کا راستہ صاف بھی کردیتے ہیں۔  ان حالات میں عوام کو  اپنے اوپر بھروسہ کرنے  اور اپنی آزادی وجمہوریت کا گر بھی سیکھنا چاہیے۔ اصل میں ایک عرصے تک اقتدار پر رہنے کی وجہ سے بیشترسیاسی پارٹیوں کے ذمےدار کرپٹ ہوچکے ہیں۔ اس لیے ان کو ہر وقت ڈر رہتا ہے کہ کہیں انکوائری کی زد میں نہ آجائیں۔ پھرجو لوگ اس وقت اقتدار میں ہیں وہ اپنے پاور کا غلط استعمال کرکے ڈرانے دھمکانے میں کوئی کسر بھی نہیں چھوڑتے۔ دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ  سیکولر پارٹیاں کہیں سیکولرزم کہیں سوشل جسٹس کہیں  آدی باسی شناخت ، غربت ،علاقائیت،  ذات برادری، ریزرویشن سب کا سودا اورسمجھوتہ بھی کرتی رہی ہیں۔جس نے ان کی اخلاقی اور سیاسی پوزیشن کو بہت مجروح کردیا ہے ۔

ان حالات میں  بڑی نادانی ہوگی اگر عوام موجودہ سیاسی پارٹیوں پر پورا بھروسہ کرکے انتخابی سیاست کے موسم کا انتظار کریں اور یہ سمجھیں کہ جمہوری قدروں، اداروں، عوامی آزادی، انسانی حقوق اور انصاف کی لڑائی لڑکر یہ پارٹیاں ہمیں بالآخر کامیابی دلادیں گی اور موجودہ دلدل سے ملک کو نکال دیں گی۔ اس لیےصحیح طریقہ یہ ہے کہ بنیادی حقوق، انسانی آزادی، سماجی انصاف، حق اطلاعات، حصول تعلیم، بنیادی ضروریات کی فراہمی، اپنی اپنی زبان اور تہذیب کی نشوونما کا حق کے لیے سب لوگوں کو عوامی، جمہوری   جدوجہد اور سنگھرش کی تیاری   اپنے اپنے مقام پر جلد شروع کردینا چاہیے۔جتنی دیر ہوگی اتنا ہی ہم منزل سے دور ہوتے جائیں گے۔

اس کی ابتداکا صحیح طریقہ یہ ہے کہ  یہ جمہوری سنگھرش گراس روٹ لیول سے شروع کیا جائے  اور سب مل کر لڑیں۔واضح رہے کہ یہ لڑائی تھوڑی لمبی ہوگی۔ اس لیے اس کی حکمت عملی میں اس کا خیال رکھا جائے۔  دھیرے دھیرے مقامی طور پر تمام مذاہب کے ماننے والوں کے علاوہ خاص طور سے گاندھی، نہرو، مولانا آزاد ، امبیڈکر، رام منوہر لوھیا، جے پرکاش نارائن اور کشن پٹنایک جیسے لوگوں کے خیالات سے وابستہ افراد کو بھی ساتھ لینا چاہیے۔اسی طرح  تمام روشن خیال،  کشادہ دل، انسان دوست اورغیر متعصب افراد کا ہر جگہ ایک متحرک حلقہ آہستہ آہستہ وجود میں آجائے گا ۔ ان میں نوجوانوں کو خاص طور سے آگے بڑھانا چاہیے۔  ایشوز اور حالات کی پوری سمجھ پیدا کرنے کے لیے بلاک اور ضلعی سطح پر ورک شاپ بھی کرنا چاہیے۔ بعد میں مقامی یونٹوں کو نٹ ورکنگ کے ذریعے ایک ریاستی سمجھ اور ملکی تعلق بھی پیدا کرنا ضروری ہوگا تب ہم ایک مضبوط عوامی رائےعامہ تیار کرسکتے ہیں جو فرقہ پرست قوتوں سے ہر قدم پر دست بدست لڑنے کے لیے آمادہ رہے۔ انسانیت کے تحفظ اور سماجی رشتے کی بنیاد پر  مختلف ایشوز کی سیاسی سمجھ کے ساتھ مل جل کر ایک مشترکہ متحدہ گروہ تیار کرنا وقت کی اہم سیاسی اور سماجی ضرورت ہے۔  اس کے لیےضروری ہے کہ ہر ریاست سے اس رخ پر سوچنے والے چند افراد پہلے شمالی اور جنوبی ہند کے  کسی موزوں مقام پر   ایک ابتدائی صلاح مشورے کے لیے جمع ہوں تاکہ   عملی نکات پر  تبادلہ خیال کیا جاسکے اور امکانات کا جائزہ بھی لیا جاسکے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ حالات میں سماجی رواداری کے روایتی ادارے یا سد بھاونا کا ہنگامی کام کرنے والی  انجمنیں بڑا رول ادا نہیں کرسکتی ہیں اور نہ صرف ڈایس شیئرنگ کے پروگرام بہت مفید ہوسکتے ہیں۔ اس کی وقتی اور محدود افادیت سے انکار نہیں ہے۔بلکہ میرا یہ بھی خیال ہے کہ  سربراہان حکومت اور فی الوقت اقتدار پر فایز نمایاں شخصیتیں  اور ان سے وابستہ ذمے داران سے خیرسگالی کی رسمی ملاقاتیں   بھی بہت مفید نہیں ہوسکتی ہیں بس میڈیا کی زینت بن سکتی ہیں۔ یوں ملاقاتیں سب سے جاری رہیں، باتیں سب سے ہوں لیکن کب ملاقات بامعنی ہے؟ کب بےمعنی ہے؟ اس کی بھی حکمت واضح رہنی چاہیے۔ کن سے کیا بات ہو یہ بھی اہمیت رکھتی ہے۔محض نیک خواہشات کا اظہار دشمنوں کے لیے ہتھیار بن سکتا ہے۔  اسی لیےکہا جاتا ہے کہ نادان لیڈر کبھی دانا دشمن سے زیادہ ملت کا نقصان کردیتا ہے ۔

بہرحال اب ضرورت اس بات کی ہے کہ گراس روٹ لیول سے جمہوری قدروں، اداروں اور اپنے حقوق اور برابری کی لڑائی سول سوسائٹی میں سب مل کر شروع کریں۔ تب ہی اس ملک اور سماج کے موجود ہ چیلنج کا مقابلہ کرنے کے ہم اہل  بن سکتے ہیں۔
Attachments area

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں