134

آئیے سیرت نبوی کا مطالعہ کریں!

محبوب عالم عبدالسلام
سدھارتھ نگر، یوپی
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک ذات تمام مسلمانوں کے لیے اُسوہ اور نمونہ کی حیثیت رکھتی ہے، آپ کی ذات سے الفت و لگاؤ اور آپ کے فرامین سے محبت و شیفتگی ہر مسلمان کا واجبی فریضہ ہے، آپ کے فرمودات کی اطاعت و اتباع ،نیز آپ کی زندگی کو اُسوہ اور حرزِ جاں بنانا اور اُسی کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالنا ہر کلمہ گو مسلم کے لیے ناگزیر ہے؛ اس لیے کہ آپ کی اطاعت و اتباع اور اُسوہ زندگی کو اپنانے میں ہی اُخروی نجات اور سعادت و کامرانی کا راز پنہاں ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم سے رخصت ہوئے چودہ سو سال سے زائد کا طویل عرصہ بیت چکا ہے، مگر آپ کے ارشادات و فرمودات، آپ کے سنہرے و انمول فیصلے، آپ کا اندازِ گفتگو، آپ کی نشست و برخاست، آپ کی بود و باش، آپ کے قیام و طعام، لوگوں کے ساتھ آپ کے رویے، بچوں کے ساتھ آپ کی شفقتیں، اُمہات المؤمنین ازواج مطہرات کے ساتھ آپ کی الفتیں، یتیموں کے ساتھ آپ کی محبتیں، غرض کہ آپ کی زندگی کے پل پل کی باتیں سیرت و احادیث کی کتابوں میں حرف بحرف مندرج ہیں اور چودہ سو سال کے طویل عرصے میں آپ کی سیرتِ طیبہ پر متعدد زبانوں میں لاتعداد کتابیں لکھی جا چکی ہیں، کچھ کتابیں مختصر ہیں تو کچھ کا دائرہ متوسط، جب کہ کچھ ضخیم اور مطول ہیں، جن کے اندر آپ کی زندگی کے ہر گوشے پر شرح و بسط کے ساتھ روشنی ڈالی گئی ہے اور آج بھی متنوع انداز میں آپ کی سیرتِ طیبہ پر کتابیں لکھنے کا سلسلہ جاری ہے اور تا قیامت یہ متبرک سلسلہ جاری رہے گا۔( ان شاء اللہ)
لیکن افسوس کا پہلو یہ ہے کہ آج ہم ادبی، سیاسی، سماجی اور مختلف میدانوں میں قابلِ ذکر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کی سوانح حیات تو خوب پڑھتے ہیں، اُن کے نام پر جرائد و رسائل کے خاص نمبر نکالتے ہیں، سیمینار اور کانفرنسیں کرتے ہیں، اُن کی زندگی کے ایک ایک پہلو کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اُن کے کارناموں پر فخر کرتے ہیں، اُن کے چھوڑے ہوئے ورثے کو آگے بڑھانے کی ہر ممکن سعی کرتے ہیں، خلاصہ یہ کہ ہم ہر قسم کی شخصیات کا مطالعہ کرتے ہیں، مگر پیارے آقا خاتم النبیین جناب محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم فداہ ابی و امی کی سیرتِ طیبہ کا یا تو سِرے سے مطالعہ ہی نہیں کرتے یا مطالعہ کرتے بھی ہیں ،تو اُس جذبے اور لگن کے ساتھ نہیں کرتے ،جس خلوص اور لگن کے ساتھ کرنی چاہیے، ہم یہ نہیں کہتے کہ آپ کی سیرتِ طیبہ کا مطالعہ نہیں کیا جارہا ہے یا آپ کی سیرت پر کام نہیں ہورہا ہے یقیناً ہورہا ہے، مگر اس کام کے دائرے کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے ،آپ کی سیرتِ طیبہ کو مختلف زبانوں میں ترجمہ کرکے دنیا کے سامنے پیش کرنے کی اشد ضرورت ہے؛ تاکہ اسلام اور پیغمبر اسلام کے تئیں جو غلط تاثر قائم ہوگیا ہے، اُس پر قدغن لگ سکے اور غلط فہمیوں کے سیاہ بادل چھٹ سکیں، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تئیں جو ریشہ دوانیاں کی جاتی ہیں یا آپ کے خلاف جو پروپیگنڈے کیے جارہے ہیں، کسی حد تک اُن پر قابو پایا جاسکے اور آپ کی بلند اخلاقی کے واقعات اور انسانیت نواز تعلیمات ،نیز آپ کی ذاتِ کامل کے تمام روشن گوشے واضح ہوسکیں۔
اِسی طرح مذہبی جلسوں اور پروگراموں میں ہم نے بارہا مشاہدہ کیا ہے کہ غیر مسلموں کو مدعو کیا جاتا ہے اور بڑی ہی عقیدت و محبت کے ساتھ اُن کی خدمت میں قرآن کریم کا نسخہ پیش کیا جاتا ہے، جو کہ دعوت و تبلیغ کے لیے یقیناً بڑا ہی مستحسن اقدام ہے، مگر میرا ذاتی خیال ہے کہ غیر مسلموں کو قرآن کریم سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر لکھی گئی کتابوں کے ہندی اور انگریزی تراجم پیش کیے جائیں ،تو زیادہ مفید اور کارآمد ثابت ہوگا؛ کیوں کہ قرآن کا نام سن کر ویسے ہی وہ متنفر ہوجاتے ہیں اور عین ممکن ہے کہ وہ اُسے لے جا کر طاقِ نسیاں ہی میں رکھ دیتے ہوں، تاہم اس کے برعکس جب اُنھیں آپ کی سیرت پر مشتمل کتاب پیش کی جائے گی ،تو غالب گمان یہ ہے کہ وہ آپؐ کی سیرت پڑھیں اور جب وہ آپؐ کی سیرت کو پڑھیں گے، آپؐ کے اخلاقِ حسنہ و اوصافِ حمیدہ کا مشاہدہ کریں گے اور لوگوں کے ساتھ آپ کے حُسنِ سلوک کا ازخود مطالعہ کریں گے ،تو متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں گے اور اُس کے بعد لامحالہ قرآنِ کریم، احادیثِ نبویہ اور اسلام کی آفاقی تعلیمات کے مطالعے کی طرف ان کا رجحان اور میلان بڑھے گا۔
آج ہمارے معاشرے میں عصری طبقہ، جو کہ دینی تعلیم و تعلم سے یکسر نابلند ہوتا ہے،کا یہ مزاج بن چکا ہے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت کا پڑھنا، اُس کا جائزہ لینا اور اُسے اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنا صرف طبقۂ علما کا کام ہے، حالاں کہ یہ غلط سوچ اور سراسر ناانصافی کی بات ہے، کلمۂ توحید و کلمۂ رسالت کا اقرار صرف علما کے طبقہ نے نہیں کیا ہے؛ بلکہ ہر فردِ مسلم کا ایمان و ایقان ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری و سچے رسول ہیں؛ اس لیے بحیثیتِ مسلمان ہم سب کی ذمے داری ہے کہ آپؐ کو اپنا آئیڈیل، نمونہ اور رول ماڈل بنانے کے لیے آپ کی سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کریں، آپ کے عادات و اطوار پر گہری نظر ڈالیں، آپ کی نشست و برخاست پر غور کریں، آپ کے بول چال کو پرکھیں اور سیرتِ طیبہ کے تمام پہلوؤں کو اپنی زندگی میں برتیں۔
لوگوں کے ساتھ آپ کا برتاؤ اور سلوک کیسا تھا؟ ازواجِ مطہرات کے ساتھ آپ کس طرح پیش آتے تھے؟ بچوں کے ساتھ آپ کے کیا رویے تھے؟ غلاموں اور لونڈیوں کے ساتھ آپ کا سلوک کیسا تھا؟ بادشاہوں اور فرمانرواؤں کے پاس آپ کے بھیجے گئے خطوط کس نوعیت کے ہوتے تھے؟ آپ جنگی معرکے کس طرح سر کرتے تھے؟ نیز جنگ میں مدِ مقابل کے ساتھ کس طرح پیش آتے تھے؟ غرض کہ آپ کی زندگی کے ہر ہر پہلو پر غور کرنے اور اسے اپنی زندگی میں برتنے کی ضرورت ہے ؛کیوں کہ اللہ رب العالمین کے فرمان ’’لقد کان لکم فی رسول اللہ أسوۃ حسنہ‘‘ کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ کی ذات ہی ہمارے لیے اسوہ اور نمونہ ہے اور آپ کے علاوہ کسی کی شخصیت میں کامیابی کی راہ ڈھونڈنا بیوقوفی اور سراسر خسارہ ہے؛ چنانچہ آپ کی سیرتِ طیبہ سے چشم پوشی کرکے نہ ہم اپنی دنیوی زندگی کو پُرسکون بنا سکتے اور نہ ہی آخرت میں بہتر نتائج کی توقع رکھ سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم تمام مسلمانوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرتِ مبارکہ کو پڑھنے، سمجھنے، اُسے فروغ دینے اور اُسی کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں